تحریر: مولانا ڈاکٹر قاسم محمود
آج ہندوستان کی سرزمین پر ایک غیر معمولی واقعہ رونما ہوا۔ صنم کدہ ہند سے رب کائنات وحدہ لاشریک کے وجود کی ایسی گواہی اٹھی کہ اہل ایمان کے دل فرحت اور اطمینان سے بھر گئے۔ سینوں میں سکون و ٹھنڈک اتر گئی۔ جی ہاں میں معروف ملحد اور فلمی شاعر جاوید اختر اور نوجوان اسلامی اسکالر مفتی شمائل عبداللہ ندوی کے درمیان ہونے والے مناظرہ کی بات کر رہا ہوں، جس کا موضوع تھا: "خدا کا وجود ہے یا نہیں؟”۔
کہانی گزشتہ مہینے سے شروع ہوتی ہے۔ جاوید اختر بھارتی فلم انڈسٹری کے معروف شاعر اور گیت نگار ہیں اور علانیہ ملحد کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ تاہم دیگر کئی دیسی ملحدین کی طرح ان کا غصہ بھی دین اسلام پر ہی نکلتا ہے۔ ہم ان کی مجبوری سمجھ سکتے ہیں کہ وہ بھارت جیسے بت پرست جنونیوں کے ملک میں رہتے ہوئے راشٹر دھرم پر الحاد کی آری چلانے کا رسک نہیں لے سکتے۔ خدا نخواستہ ہندو مت پر اپنے الحادی فکر کی چاند ماری کی تو وہ جانتے ہیں کہ انہیں ماب لنچ میں مارا جا سکتا ہے، سو ان کی "مہربانی” دین اسلام اور مسلمانوں پر ہی رہتی ہے۔
گزشتہ ماہ جاوید اختر نے حسب عادت پھر کچھ متنازع بیانات دیے، جن پر کافی شور اٹھا۔ اسی دوران کولکتہ کے ایک پروگرام میں انہیں مدعو کیا گیا، لیکن مسلمانوں کے ردعمل کے سبب وہ وہاں حاضر نہ ہوئے۔ اس موقع پر کولکتہ کے مفتی شمائل عبداللہ ندوی نے انہیں مناظرہ کی دعوت دی اور کہا کہ روز روز کے جھگڑوں کے بجائے ایک بار ہی بات کر کے مسئلہ حل کریں، چنانچہ بڑی لے دے اور ردوکد کے بعد آخر کار بیس دسمبر کی تاریخ مقرر ہوئی۔
جاوید اختر نے ڈیبیٹ کی جگہ، ماڈیٹر اور دیگر شرائط رکھیں، جو منظور کی گئیں، جس کے بعد مناظرے کی منادی کرادی گئی۔ اعلان کے بعد اہل علم میں بحث شروع ہو گئی۔ کچھ نے مفتی شمائل ندوی پر تنقید بھی کی کہ وہ خود کو آزمائش میں ڈال رہے ہیں، انہیں اس مشکل میدان میں نہیں اترنا چاہیے تھا وغیرہ۔ علاوہ ازیں ہر شخص سانس کھینچے منتظر رہا کہ اب کیا ہوگا، کیونکہ یہ پیچیدہ اور مشکل ترین موضوع ہے۔ یہ خوف بھی لاحق تھا کہ اگر خدانخواستہ مفتی شمائل ندوی اپنا مقدمہ جیت نہ سکے تو کیا ہوگا؟ امید و بیم کی اس فضا میں دن آگے بڑھتے گئے، یہاں تک کہ وقت موعود آن پہنچا اور رن لگ گیا۔ ہر شخص دم بخود نتیجے پر نگاہیں ٹکائے بیٹھا تھا۔ گفتگو شروع ہوئی تو سب کی جان میں جان آئی اور الحمدللہ جاءالحق و زھق الباطل، ان الباطل کان زھوقا کی عملی تعبیر صنم کدہ ہند سے مل گئی۔ اس جیت کے ساتھ ہی مجھے وقت ایک سو اڑتالیس سال پیچھے لے گیا۔ جب حجت الاسلام قاسم العلوم و الخیرات بانی دار العلوم دیوبند حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی نے 1877ء میں مباحثہ شاہجہانپور میں میلہ خداشناسی لوٹ لیا تھا۔ جب آپ نے اپنے براہین قاطعہ سے دین اسلام کے مقابل ہندومت، عیسائیت سمیت تمام ادیان کو علی رؤس الاشھاد باطل ثابت کردیا تھا، آج الحمدللہ اسی سرزمین ہند پر خدا نے وہی جلوہ حضرت نانوتوی کے روحانی فرزند مفتی شمائل عبداللہ ندوی کے ذریعے دکھا دیا۔
میں مفتی شمائل صاحب اور ان کے استاد مفتی یاسر ندیم الواجدی کو دلی ہدیہ تبریک پیش کرتا ہوں۔ ساتھ ہی نوجوان علماء سے کہنا چاہوں گا کہ وہ فضول مسلکی مناظروں میں وقت ضائع کرنے اور مسلمانوں کو کمزور کرنے کے بجائے الحاد اور فکر جدید کے چیلنجوں کا مقابلہ کریں اور جدید دنیا پر دین حق کی حقانیت کے اثبات پر اپنی زندگی لگائیں۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے، آمین۔
نوٹ: اس دلچسپ ڈیبیٹ کی ویڈیو کا لنک کمنٹ سیکشن میں دیا جا رہا ہے۔

