وفاق المدارس کے تحت دینی مدارس کے مشترکہ رفاہی نیٹ ورک کی ضرورت

وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان سیلاب کی تباہ کاریوں سے نبرد آزما ہے۔ ملک کے طول و عرض میں سیلاب اور قدرتی آفات نے لاکھوں افراد کو بے گھر اور بے سہارا کر دیا ہے۔ کھلے آسمان تلے بھوکے پیاسے خاندان اپنی زندگی کی بقا کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ گھروں، دکانوں اور روزگار کے خاتمے نے حقیقت یہ ہے کہ پورے معاشرتی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایسے میں جہاں حکومتی اقدامات ناکافی دکھائی دے رہے ہیں، وہیں اہلِ خیر، سماجی کارکنان اور خصوصاً دینی مدارس و علمائے کرام نے اس کمی کو پورا کرنے کی بساط بھر کوشش جاری رکھی ہوئی ہے۔
یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان کے دینی مدارس صرف تعلیم و تربیت تک محدود نہیں ہیں، ملک و ملت پر جب بھی کوئی مشکل وقت آیا، انہوں نے ہمیشہ آگے بڑھ کر اپنی خدمات پیش کی ہیں۔ حالیہ سیلاب میں ضلع بونیر میں حضرت مولانا مفتی فضل غفور صاحب کی قیادت میں سیلاب متاثرین کی بحالی و امداد کیلئے جو عملی ماڈل سامنے آیا، وہ اس کی بہترین مثال ہے۔ مفتی صاحب کی سرکردگی میں نہ صرف ہنگامی بنیادوں پر متاثرین کو کھانا، کپڑا اور رہائش فراہم کی گئی بلکہ بے گھر خاندانوں کو روزگار اور کاروبار کے مواقع بھی مہیا کیے گئے اور یہ سلسلہ تا حال جاری ہے۔ اس کے علاوہ جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاون، جامعہ دار العلوم کراچی،جامعہ بیت السلام سمیت کئی دینی مدارس اور انفرادی طور پر وفاق المدارس سے منسلک مدارس کے علماء و فضلا خدمت کے میدان میں موجود ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایک ایسا تجربہ ہے جسے قومی سطح پر ذرا منظم انداز میں مستقل طور پر اپنایا جائے تو ملک کے حالات بدل سکتے ہیں، و ما ذالک علی اللہ بعزیز۔
منتشر طور پر اہل دین کی یہ خدمات دیکھ کر دل میں خیال آیا کہ وفاق المدارس العربیہ، جو دینی مدارس کا پاکستان میں سب سے بڑا اور معتبر نیٹ ورک ہے، اپنی تعلیمی و تربیتی خدمات کے ساتھ ساتھ باضابطہ طور پر فلاحی و رفاہی کردار بھی سنبھالے اور دینی اداروں کی خدمات کو ایک مشترکہ چھتری فراہم کرے تو اس کے انقلاب آفرین نتائج نکل سکتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ حضرت شیخ الاسلام مدظلہم اور حضرت مولانا جالندھری صاحب دامت برکاتہم و دیگر اکابر وفاق کی سرپرستی میں اس مقصد کیلئے وفاق المدارس کے تحت ایک باضابطہ پلیٹ فارم تشکیل دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں سب سے پہلی ضرورت یہ ہے کہ وفاق المدارس کی قیادت میں ملک گیر فلاحی و رفاہی نیٹ ورک قائم کیا جائے۔ یہ نیٹ ورک مدارس، علمائے کرام، اہلِ خیر اور معتبر ٹرسٹوں کو ایک چھتری تلے جمع کرے۔ ہر صوبے، ضلع اور تحصیل کی سطح پر خدمت کمیٹیاں بنائی جائیں، جو نہ صرف آفات کے وقت ریلیف فراہم کریں بلکہ مستقل بنیادوں پر بحالی، روزگار، علاج معالجہ اور تعلیمی اسکالر شپس کے منصوبوں کی نگرانی کریں۔ اس طرح فلاحی کام وقتی ہنگامی اقدامات تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ایک مربوط نظام کی شکل اختیار کرے گا۔مزید یہ کہ اس نیٹ ورک کے تحت دینی مدارس کے طلبہ، اساتذہ اور فضلا کیلئے خصوصی تربیتی ورکشاپس اور اسکلز پروگرام ترتیب دیے جائیں۔ ان ورکشاپس میں انہیں فلاحی تنظیمی کام، جدید وسائل کے استعمال اور سماجی بہبود کے طریقے سکھائے جائیں۔ نیز فضلا کیلئے اسکلز ڈیولپمنٹ کے پروگرام بھی ڈیزائن کیے جائیں تاکہ وہ دینی خدمات کے ساتھ اپنے لیے وسیلہ روزگار بھی پیدا کریں۔ دنیا میں اس کے کئی عملی ماڈل موجود ہیں، مثلاً انڈونیشیا کی جماعت محمدیہ اور مصر کی اخوان المسلمین کے ماڈل کو اسٹڈی کیا جا سکتا ہے۔ یوں مدارس کا طبقہ نہ صرف دینی رہنمائی میں مؤثر ہوگا بلکہ عملی میدان میں بھی ایک منظم قوت بنے گا۔اس نیٹ ورک کے تحت نمایاں خدمات انجام دینے والے اداروں اور افراد کی حوصلہ افزائی کے لیے سالانہ ایوارڈز اور تعریفی پروگرام منعقد کرنا بھی نہایت مفید ہوگا۔ اس سے کام کرنے والوں کے جذبے کو تقویت ملے گی اور مزید لوگ فلاحی خدمات کی طرف راغب ہوں گے۔ یہ بات قابلِ غور ہے کہ اگر مدارس اور فضلا کی کوششیں منظم ہو جائیں تو اس کے بے شمار مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ انفرادی اور الگ الگ کام کے مقابلے میں اجتماعی اور مربوط جدوجہد زیادہ بار آور ثابت ہوگی۔ ایک طرف کام میں وسعت اور پھیلاؤ آئے گا، دوسری طرف زیادہ سے زیادہ مستحقین تک رسائی ممکن ہوگی۔ اس کے نتیجے میں صرف قدرتی آفات یا ایمرجنسی ریلیف تک معاملہ محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے سال خدمتِ خلق کا ایک مربوط دائرہ کار قائم ہوگا۔
اس کا ایک نمایاں پہلو یہ بھی ہوگا کہ اس پلیٹ فارم کے ذریعے نہ صرف متاثرین آفات کو سہارا ملے گا بلکہ ضرورت مند علمائے کرام، ائمہ مساجد اور غریب طلبہ کے لیے بھی تعلیم، علاج اور گھریلو اخراجات کی ایک مستقل سبیل نکل آئے گی۔ اس طرح مدارس کی خدمات کا دائرہ مزید وسیع ہوگا اور عوام کا اعتماد بھی بڑھے گا۔ یہاں یہ اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ وفاق المدارس کا بنیادی دائرہ کار تعلیمی و تربیتی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ دینی قیادت کی اصل قوت اس کی عوامی خدمت اور سماجی رہنمائی میں بھی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ مدارس نے ہمیشہ مشکل وقت میں قوم کا ساتھ دیا ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ان خدمات کو ایک ادارہ جاتی شکل دی جائے تاکہ ان کی افادیت بڑھ جائے اور یہ کام وقتی یا انفرادی سطح پر محدود نہ رہیں۔ اگر وفاق المدارس اپنی سرپرستی اور رہنمائی کے ساتھ یہ پلیٹ فارم قائم کرتا ہے تو ان شاء اللہ ملک بھر میں ایثار، یکجہتی اور اعتماد کا ایک نیا باب کھلے گا۔ اللہ تعالیٰ نے جو خیر کے وسائل امت کو عطا کیے ہیں، وہ منظم ہو کر کئی گنا زیادہ مؤثر ثابت ہوں گے۔ یہ نہ صرف متاثرین کی بحالی اور غرباء کی کفالت کا ذریعہ ہوگا بلکہ پوری قوم میں اعتماد، اتحاد اور خدمتِ خلق کی ایک نئی روح بھی پیدا کرے گا۔
تحریر: مولانا ڈاکٹر قاسم محمود
بشکریہ روزنامہ اسلام

Leave a Reply