ٹیکنیکل سینٹر، بنہ الائی

شفیقُ الاُمۃ مولانا ڈاکٹر قاسم محمود حفظہ اللہ عملیت پسندی، عزم و ہمت اور بلند کردار کے پیکر، ایک سچے وژنری عالم دین ہیں۔ وہ صرف نظریہ ساز نہیں بلکہ ایک فعال رہنما ہیں جو خواب دیکھتے ہیں اور پھر ان خوابوں کو حقیقت کے رنگ میں ڈھالتے ہیں۔ ان کا وژن یہ ہے کہ نوجوان نسل علم و ہنر کو اپنا زیور اور تقویٰ و ایمان کو اپنا زادِ راہ بنا کر میدانِ عمل میں اترے اور معاشرے میں اپنی صلاحیتوں سے چھا جائے۔

مولانا کو یہ دیکھ کر کرب ہوتا ہے کہ نوجوان بیکار اور بے ہنر رہ جائیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہمارا ہر نوجوان علم و عمل میں یکتا ہو، ہنر اور مہارت سے آراستہ ہو، ایمان و عقیدے میں مضبوط ہو۔ کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ معاشرے کو بدلنے والے ایسے ہی نوجوان ہوتے ہیں، اور یہی وہ ’’سافٹ اور سبز انقلاب‘‘ ہے جس کی آج ہماری سوسائٹی کو شدید ضرورت ہے۔

یہی وژن الائی جیسے ملک کے انتہائی دور دراز اور پسماندہ پہاڑی علاقے میں قائم کردہ ٹیکنیکل سینٹر کی شکل میں عملی جامہ پہنتا ہے۔ الحمدللہ، ایک ماہر ٹرینر کی نگرانی میں یہاں کے مقامی نوجوانوں کو دینی ماحول میں الیکٹریشن کی جدید اسکلز سکھائی جا رہی ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ جب یہ نوجوان کل عملی میدان میں اتریں تو نہ صرف اپنے ہنر سے روزگار کمائیں بلکہ تقویٰ، خدا خوفی اور ایمانداری کے ساتھ اپنے معاملات چلائیں اور رزقِ حلال میں برکتیں سمیٹیں۔

مولانا ڈاکٹر قاسم محمود کی یہ جدوجہد محض ایک تعلیمی یا فنی منصوبہ نہیں بلکہ ایک روشن پیغام ہے کہ دین اور دنیا، اخلاق اور ہنر، کردار اور روزگار—all must go hand in hand۔ یہی امتِ مسلمہ کی اصل طاقت اور روشن مستقبل ہے۔

اللہ تعالیٰ مولانا کے عزائم کو کامیاب فرمائے، ان کی کوششوں کو قبولیت عطا کرے اور ہمارے نوجوانوں کو واقعی وہ انقلابی کردار بخشے جو ایک نئی صبح کا پیغام بنے۔ آمین۔

Leave a Reply