ڈنہ کے تین اہم ادارے

سطحِ سمندر سے ہزاروں فٹ کی بلندی پر، ملک کے ایک نہایت پسماندہ اور دور افتادہ خطے ڈنہ پاشتو (الائی، بٹگرام) میں شفیق الامہ مولانا ڈاکٹر قاسم محمود حفظہ اللہ کے قائم کردہ ادارے القاسم اکیڈمی، مدرسہ قاسم العلوم اور مدرسہ صغراں للبنات علم و عرفان کے چراغ روشن کیے ہوئے ہیں۔ یہ ادارے اس ویران اور محروم پہاڑی علاقے میں نہ صرف دینی تعلیم کی شمعیں فروزاں کر رہے ہیں بلکہ ریاستی وسائل، حکومتی توجہ اور ترقیاتی سہولیات سے یکسر محروم اس خطے کے غریب بچوں کو مفت اور معیاری ابتدائی تعلیم بھی ایک منظم ماحول میں فراہم کر رہے ہیں۔

یہ وہ خدمت ہے جس پر دنیا کے بڑے ادارے اعزازات اور ایوارڈز دیتے ہیں، مگر ڈاکٹر قاسم محمود نے کبھی صلہ یا ستائش کی خواہش نہیں کی۔ ان کی تمام تر کاوشیں صرف اور صرف رضائے الٰہی کے حصول، اپنی قوم کے دلوں میں علم کی روشنی عام کرنے، جہالت کے اندھیروں کو مٹانے اور غربت کے خاتمے کے جذبے سے سرشار ہیں۔

تصاویر میں نظر آنے والے القاسم اکیڈمی اور مدرسہ قاسم العلوم کے یہ معصوم بچے اس حقیقت کی روشن دلیل ہیں کہ علم کی پیاس سب سے بڑی طاقت ہے۔ یہ بچے نہایت نظم و ضبط کے ساتھ دینی تعلیم میں مصروف ہیں، جہاں انہیں دینیات، مسنون اذکار، دعائیں، سنتیں، واجبات، فرائضِ نماز اور آدابِ زندگی سکھائے جاتے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب کی خصوصی ہدایت پر ان دنوں ہر صبح کا آغاز ترجمہ نماز سے ہوتا ہے۔ یہ منفرد نصاب اس لئے ترتیب دیا گیا ہے تاکہ بچے محض الفاظ ہی نہیں بلکہ ان کے معانی و مفہوم کو بھی دل و دماغ میں بٹھا سکیں۔ ان شاءاللہ، محض ایک ہفتے میں یہ ننھے فرزندِ اسلام پوری نماز مع ترجمہ زبانی یاد کر لیں گے۔

یہی وہ انمول خدمت ہے جو وقت کے سرد و گرم میں بھی قائم رہتی ہے اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کو روشنی عطا کرتی ہے۔

Leave a Reply