اہل علم اور اہل محبت کے ہمراہ ایک یادگار دن (تحریر مولانا ڈاکٹر قاسم محمود
اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شمار ممکن نہیں۔ وہ اپنے بندوں پر ایسے ایسے انعامات فرماتا ہے کہ انسان خود حیران رہ جاتا ہے کہ آخر کن اعمال کے سبب وہ ان محبتوں، شفقتوں اور نوازشوں کا مستحق بنا۔
گزشتہ رات اچانک طبیعت اس قدر خراب ہوگئی کہ شدید بے چینی محسوس ہونے لگی۔ معدے میں درد اور تکلیف کی کیفیت ایسی تھی کہ نہ سکون سے بیٹھا جاتا تھا اور نہ لیٹا جاتا تھا۔ مجبوراً کمرے سے نکل کر باہر ایک چارپائی پر آ کر لیٹ گیا۔ اس وقت دل پوری طرح اپنے رب کی طرف متوجہ تھا۔ دعا، ذکر اور دم میں مشغول رہا۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت دیکھیے کہ کچھ ہی دیر بعد طبیعت سنبھلنے لگی اور تکلیف میں واضح کمی آگئی۔ صبح آنکھ کھلی تو سامنے میرے محترم بھائی، بزرگ دوست اور محبت و اخلاص کا پیکر حضرت مولانا مفتی نظیر احمد خان صاحب حفظہ اللہ کھڑے تھے۔ نماز کا وقت تھا۔ ان کی شفقت بھری آواز پر بیدار ہوا اور الحمدللہ نماز ادا کی۔
ناشتے کے دوران جب رات کی کیفیت کا ذکر ہوا تو حضرت نے بڑی محبت سے فرمایا:
“رات طبیعت بھی ٹھیک نہیں رہی اور آرام بھی مکمل نہیں ہو سکا، اس لیے کچھ دیر مزید آرام کر لیجیے، پھر ان شاء اللہ آگے کی ترتیب بنا لیتے ہیں۔” یہ جملے سن کر دل کو عجب سکون ملا۔ زندگی میں صاحبِ مال اور صاحبِ منصب بہت مل جاتے ہیں، لیکن دوسروں کی راحت کا خیال رکھنے والے لوگ اللہ تعالیٰ کی خاص نعمت ہوتے ہیں۔
اسی دوران حضرت مولانا مفتی عبدالوہاب صاحب حفظہ اللہ سے رابطہ ہوا۔ معلوم ہوا کہ ان کے مہمان روانہ ہونے کے بعد سوات کی جانب پروگرام ترتیب دیا جائے گا۔ چنانچہ حضرت مفتی نظیر احمد خان صاحب کے مشورے کے مطابق کچھ دیر آرام کیا۔ بعد ازاں حضرت مفتی نظیر احمد خان صاحب اور ہم اپنے دونوں صاحبزادگان حافظ عظمت اللہ اور حافظ عطا اللہ کے ساتھ دو گاڑیوں میں روانہ ہوئے۔ راستے بھر یہی گمان رہا کہ دوپہر کا کھانا حضرت مفتی عبدالوہاب صاحب کے ہاں ہوگا، لیکن باہمی رابطوں سے محسوس ہو رہا تھا کہ کہیں اور دعوت کا اہتمام ہے۔
چارباغ سے آگے ایک ہوٹل پر گاڑیاں رکیں۔ ابھی ہم اترے ہی تھے کہ میرے انتہائی عزیز، مخلص اور ہمدرد بھائی حضرت مولانا مفتی عبدالوہاب صاحب حفظہ اللہ اپنے صاحبزادے کے ساتھ تشریف لے آئے۔ ان کی آمد نے دل کو خوشی سے بھر دیا۔ کچھ دیر نشست رہی، نمکین لسی نوش کی گئی اور ظہر کی نماز باجماعت ادا کی گئی۔ بعد ازاں معلوم ہوا کہ خوازہ خیلہ میں حضرت مفتی نظیر احمد خان صاحب کے ایک محب نے دعوت کا اہتمام کر رکھا ہے۔ چنانچہ ہم وہاں پہنچے۔ اللہ گواہ ہے کہ جس محبت، عقیدت اور خوش دلی سے میزبان خاندان نے استقبال کیا، وہ مدتوں یاد رہے گا۔ ان کے انداز میں اخلاص تھا اور خدمت میں محبت۔ دسترخوان پر متنوع کھانے موجود تھے اور ہر فرد بڑھ چڑھ کر مہمان نوازی کرنا چاہتا تھا۔ انسان کھانے سے زیادہ محبت کھاتا ہے، اور اس دن محبت واقعی وافر مقدار میں موجود تھی۔
کھانے کے بعد مٹھائی اور چائے پیش کی گئی۔ پھر اہلِ خانہ اور احباب کے اصرار پر دعا کی گئی۔ دعا میں ان کے لیے دین و دنیا کی خیر، رزق میں برکت، اولاد کی اصلاح، صحت و عافیت اور دنیا و آخرت کی کامیابی کی دعائیں کی گئیں۔ حاضرین کی آمین اور چہروں پر جھلکتی امید ایک روحانی منظر پیش کر رہی تھی۔ بعد ازاں ہم حضرت مولانا مفتی عبدالوہاب صاحب حفظہ اللہ کے مدرسے پہنچے اور عصر کی نماز وہیں ادا کی۔ اس مرتبہ مدرسے میں ہونے والی تعمیرات اور ترقیاتی کام دیکھ کر دل خوش ہوگیا۔ ماشاء اللہ! ادارہ پہلے سے زیادہ منظم، خوبصورت اور فعال نظر آیا۔ اللہ تعالیٰ ان کوششوں کو قبول فرمائے۔ واپسی کے وقت حضرت مفتی عبدالوہاب صاحب نے فرمایا: “چارباغ چلتے ہیں، آئس کریم کھاتے ہیں۔” چنانچہ ہم وہاں گئے، بہترین آئس کریم سے لطف اندوز ہوئے اور سفر کی خوشگوار یادوں میں مزید اضافہ ہوا۔
گھر واپس پہنچ کر ضروری دوائیں استعمال کیں اور آرام کے لیے لیٹ گیا۔ رات کو جب دن بھر کے واقعات ذہن میں آئے تو دل بے اختیار اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے لگا۔ بیماری میں شفا، سفر میں رفاقت، علماء کی محبت، دوستوں کا اخلاص اور میزبانوں کی مہمان نوازی، یہ سب اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ حضرت مولانا مفتی نظیر احمد خان صاحب، حضرت مولانا مفتی عبدالوہاب صاحب، تمام میزبانوں، احباب اور ساتھیوں کو جزائے خیر عطا فرمائے، ان کی محبتوں اور اخلاص کو قبول فرمائے اور ہمیں ہمیشہ صالحین کی معیت، اہلِ علم کی محبت اور اپنی رحمت کے سائے میں زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔