بانی جامعہ حضرت اقدس مولانا مفتی محمد مظفر الدین علیہ الرحمہ

بانی جامعہ اسلامیہ مخزن العلوم جامع المعقول و المنقول، محسن الائی حضرت اقدس مولانا مفتی محمد مظفر الدین علیہ الرحمہ اپنے وقت کے ایک جلیل القدر عالم، باکمال مدرس، شب زندہ دار بزرگ، صاحب بصیرت سیاستدان اور حکمت و بصیرت رکھنے والے مصلح تھے۔ آپ کا تعلق وادی الائی کے ایک ایسے خانوادے سے تھا جو دین داری، تقویٰ اور خدمتِ خلق کے اوصاف کے لیے جانا جاتا تھا۔

پچاس کی دہائی کے اوائل میں آپ کی ولادت وادی الائی کے ایک پہاڑی گاؤں ڈنہ (پاشتو) میں ہوئی۔ یہ علاقہ اس وقت تعلیمی اور سماجی پسماندگی کا شکار تھا، مگر آپ کی پیدائش نے اس ماحول کو ایک نئی علمی سمت عطا کی۔ بچپن ہی سے آپ میں دینی میلان اور علم حاصل کرنے کا غیر معمولی شوق نمایاں تھا۔ گاؤں میں ہی آپ نے قرآن مجید اور مکتبی تعلیم کا آغاز کیا اور پھر قریبی بستیوں میں اس وقت کے ممتاز علماء سے ابتدائی علوم حاصل کیے۔ اساتذہ آپ کی ذہانت، محنت اور اخلاق سے بے حد متاثر تھے۔

تعلیم کے سفر میں آپ نے درسِ نظامی کی تکمیل کے لیے مختلف مقامات کا رخ کیا۔ فقہ، حدیث، تفسیر اور معقولات میں آپ کو گہری بصیرت حاصل ہوئی۔ دورانِ تعلیم آپ نے محنت اور صبر کو شعار بنایا، والدین کی دعاؤں اور اساتذہ کی شفقت نے آپ کو مزید نکھارا۔ علم سے محبت اور کتب بینی کی عادت نے آپ کو ایک ہمہ گیر عالم اور محقق بنا دیا۔

جب آپ نے تدریسی میدان میں قدم رکھا تو ابتدا میں چھوٹے پیمانے پر درسگاہ قائم کی۔ آپ کی اخلاص اور انتھک محنت سے یہ ادارہ ترقی کرتے کرتے ایک عظیم جامعہ کی شکل اختیار کر گیا۔ آج جامعہ اسلامیہ مخزن العلوم آپ کی علمی بصیرت اور جدوجہد کا روشن چراغ ہے، جہاں سے ہزاروں طلبہ نے تعلیم حاصل کر کے ملک و بیرون ملک دین کی خدمت کو اپنا مشن بنایا۔

حضرت مفتی صاحب علیہ الرحمہ محض مدرس نہیں تھے بلکہ ایک صاحب حکمت سماجی رہنما بھی تھے۔ آپ نے علاقے کے مسائل کو قریب سے دیکھا اور ان کے حل کے لیے ہمیشہ عملی جدوجہد کی۔ سیاست کو آپ نے اقتدار کی ہوس نہیں بلکہ خدمتِ خلق کا ذریعہ بنایا۔ عوامی شعور بیدار کرنے اور دینی اقدار کو معاشرے میں راسخ کرنے میں آپ کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔

آپ کی شخصیت شب زندہ داری، زہد و تقویٰ، عاجزی، انکساری اور طلبہ سے بے پناہ شفقت کا حسین امتزاج تھی۔ آپ نے لوگوں کو ہمیشہ محبت، اخوت اور دیانت کی راہ دکھائی۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے شاگرد اور متوسلین آج بھی آپ کے علوم، افکار اور نصائح کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

حضرت مفتی مظفر الدین علیہ الرحمہ کی پوری حیات ایک روشن مثال ہے۔ آپ نے علم کو عمل کے ساتھ جوڑا، سیاست کو خدمت کے ساتھ، اور تقویٰ کو بصیرت کے ساتھ۔ آپ کے چھوڑے ہوئے علمی اور فکری ورثے نے وادی الائی ہی نہیں بلکہ پورے خطے کو روشنی عطا کی۔ آج آپ کی یاد محض ایک فرد کے طور پر نہیں بلکہ ایک عہد ساز تحریک کے طور پر زندہ ہے۔

Leave a Reply