شفیقُ الاُمۃ مولانا ڈاکٹر قاسم محمود مدّظلّہ العالی صرف نظریاتی تعلیم کے داعی نہیں بلکہ عملی تربیت اور عملی میدان کے بھی مردِ میدان ہیں۔ ان کی سرپرستی میں کراچی سے لے کر الائی کے پہاڑوں تک تعلیم، رفاہ اور فلاح کے تقریباً تیس شعبوں میں خدمات کا روشن سلسلہ جاری ہے۔ یہ تمام جہود دراصل ایک عظیم مقصد کے تحت ہیں: معاشرے سے جہالت، پسماندگی اور غربت کا اندھیرا کم کرنا اور علم، شعور اور خدمت کی شمعیں جلانا۔
جامعہ اسلامیہ مخزن العلوم کے سامنے بنارس پل کے نیچے روزانہ لگنے والا فری دسترخوان اسی عزم و خدمت کا جیتا جاگتا نشان ہے، جہاں سینکڑوں ضرورت مند بلا امتیاز رنگ و نسل، مذہب و مسلک اپنی بھوک مٹا کر دُعائیں دیتے ہیں۔ یہ منظر محض روٹی کا نہیں بلکہ ہمدردی، اخوت اور ایثار کے جذبے کا آئینہ دار ہے۔
مولانا ڈاکٹر قاسم محمود نے اس عمل سے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ تعلیم اور خدمت دونوں ایک دوسرے کے بغیر نامکمل ہیں۔ ان کی قیادت میں علم کے چراغ بھی روشن ہو رہے ہیں اور بھوکوں کے دسترخوان بھی آباد ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو بھی اپنی اپنی بساط کے مطابق خدمتِ خلق کی توفیق عطا فرمائے اور اس مشن کو مزید وسعت اور استحکام عطا کرے۔ آمین۔

