تعلیمی اداروں کو آؤٹ سورس کرنا مسائل کا حل نہیں، مولانا ڈاکٹر قاسم محمود

خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے تعلیمی اداروں کو آؤٹ سورس کرنے کے فیصلے کو لیکر پورے صوبے کے عوام میں شدید تشویش کی لہر جاری ہے۔
تعلیمی اداروں کو آؤٹ سورس کرنے کا سیدھا سیدھا مطلب ایجوکیشن کی پرائیویٹائزیشن ہے۔ تعلیم کی نجکاری کا مطلب یہ ہے کہ ریاست اور حکومت اب عوام کو تعلیم کی سہولت فراہم کرنے سے بری الذمہ ہیں، اب عوام پر منحصر ہے کہ وہ اپنے بچوں کو مہنگی فیسیں ادا کرکے تعلیم دلواتے ہیں یا اس فرض سے دستکش ہوجاتے ہیں۔ گویا حکومت تعلیم کو بھی مکمل طور پر کاروباری لوگوں کے رحم و کرم پر چھوڑ رہی ہے۔
آج ایبٹ آباد گورنمنٹ کالچ سمیت پورے صوبے کے گورنمنٹ کالجز کے اسٹوڈنٹس، ٹیچرر اور بچوں کے والدین پریشان ہیں اور ہونا بھی چاہئے۔ میں اس عمل کی شدید مذمت کرتا ہوں اور افسوس کا اظہار کرتا ہوں کہ حکومت بجائے مسائل حل کرنے کے تعلیم کی ذمے داری سے ہی اپنا دامن چھڑا رہی ہے۔
میں مطالبہ کرتا ہوں کہ تعلیمی اداروں کو آؤٹ سورس کرنے کے بجائے ان اسباب کو تلاش کرکے حل ڈھونڈنے کی کوشش کرنی چاہیے جن کی وجہ سے نوبت اس انجام تک آپہنچی ہے۔ شکریہ

Leave a Reply