(تحریر: مولانا ڈاکٹر قاسم محمود)
مولانا مفتی مختار الدین شاہ صاحب کی وفات پر دل انتہائی ملول ہے، مگر غم و اندوہ کے اس موقع پر ہم یہی کہیں گے کہ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ ان للہ ما اخذ و لہ مااعطیٰ و کل شیئ عندہ باجل مسمی۔ ابھی پاکستان کے اہل دین عظیم روحانی مربی مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی علیہ الرحمہ کی وفات حسرت آیات کے صدمے سے نہیں نکلے تھے کہ حضرت مختار الدین شاہ صاحب بھی پیک اجل کو لبیک کہہ کر ہمیں داغ مفارقت دے گئے۔ اک چراغ اور بجھا اور بڑھی تاریکی!
آگے پیچھے قلیل وقت کے دوران ان دو عظیم علمی و روحانی شخصیات کا انتقال اہل دین کا ایسا نقصان ہے کہ اس کی بھرپائی کسی صورت ممکن نہیں۔ ان حضرات کی وفات سے جو خلا پیدا ہوگیا ہے وہ دیر تک قائم رہے گا۔ ایک حدیث شریف میں کہا گیا ہے کہ إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنَ النَّاسِ، وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ۔ یعنی اللہ تعالیٰ علم کو لوگوں سے چھینتے ہوئے نہیں اٹھائے گا بلکہ وہ علماء کو اٹھا کر علم کو اٹھا لے گا۔ اس کے بعد فرمایا گیا کہ علم اور علماء کے اٹھائے جانے کے بعد بے علم لوگ مسندوں پر آئیں گے اور لوگوں کو گمراہی کی طرف لے جائیں گے۔ مفتی مختار الدین صاحب کی وفات کی اندوہناک خبر سن کر ہی دل و دماغ اس حدیث شریف کے معانی و مفاہیم کی طرف منتقل ہوئے اور دل نے یہی پکارا کہ اک چراغ اور بجھا اور بڑھی تاریکی۔ یقینا علم کے چراغ سے بڑھ کر روشنی کا استعارہ کچھ نہیں اور علم کا چراغ بجھنے سے پورا معاشرہ تاریکی کی طرف بڑھ جاتا ہے۔
اخلاص و تقویٰ میں کتنی طاقت اور تاثیر ہوتی ہے اس کا اندازہ حضرت مفتی مختار الدین شاہ صاحب کی ذات سے لگایا جا سکتا ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ قبول کرلیتے ہیں، اسے مقبول عام بناتے ہیں اور اس کی محبوبیت کا ڈنکا بجا دیتے ہیں۔ کربوغہ شریف وطن عزیز پاکستان کے انتہائی دور افتادہ ضلع ہنگو کا ایک گمنام مقام و گوشہ ہے، حضرت مفتی مختار الدین شاہ صاحب کا تعلق اس گمنام مقام سے تھا، مگر ان کے کام اور جدوجہد میں خلوص اور جذبہ للہیت اس قدر تھا کہ یہ ادا رب تعالیٰ کو پسند آئی اور انہیں ایک خلقت کا ایسا محبوب بنا دیا کہ لاکھوں لوگ کراچی، لاہور جیسے شہروں ہی نہیں دنیا بھر سے ہزاروں کلومیٹر کا سفر طے کرکے اس دورافتادہ پہاڑی مقام کا رخ کرتے تھے۔ یہ کیا تھا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے قبولیت و مقبولیت کی ایک جھلک تھی۔ آپ تحریک ایمان و تقویٰ کے بانی تھے۔ جس کا مقصد یہی تھا کہ اللہ کی مخلوق کے دلوں کو روحانی مفاسد اور بیماریوں سے مانجھ کر پاک کردیا جائے۔ بلاشبہ آپ نے اس تحریک کے ذریعے لاکھوں دلوں کو مانجھ کر صیقل کردیا، جو امید ہے کہ رب تعالیٰ کے ہاں آپ کیلئے ذخیرہ آخرت بنے گا۔
میں غم و اندوہ کے اس موقع پر حضرت مفتی صاحب مرحوم کے اہلخانہ اور جملہ متوسلین و دست گرفتگان کی خدمت میں کلمات تعزیت و تسلیت پیش کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ رب تعالیٰ آپ کے درجات بلند فرمائے اور خدمات قبول فرمائے، آمین۔

