اتحاد امت کا خوشگوار جھونکا

تحریر: مولانا ڈاکٹر قاسم محمود
ملک کو سیاسی، سماجی اور آئینی و قانونی مسائل سے نکالنے کے لیے آج کراچی میں تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام کا ایک تاریخی اجتماع ان سطور کی تحریر تک زیر انعقاد ہے، جسے دیکھ کر الحمدللہ دل باغ باغ ہو رہا ہے۔ یہ نہایت خوش آئند بات یہ ہے کہ تمام مکاتب فکر کے اکابرین "مجلس اتحادِ امت” کے پلیٹ فارم پر جمع ہوئے اور ملک و قوم کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مشترکہ عزم کا اظہار کیا۔ اگرچہ ملکی تاریخ میں ماضی میں بھی مختلف مکاتب فکر کے مشترکہ پلیٹ فارمز بنے، لیکن بدقسمتی سے مسائل میں خاطر خواہ کمی نہیں آئی۔ آج مسلمانوں کے مختلف مکاتب فکر کے درمیان لڑائی، نااتفاقی، انتشار اور فساد نے مسائل کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ وقت کی یہ ضرورت ہے کہ تمام مسلمان متحد ہوں اور اپنی اجتماعی قوت سے ان مشترکہ مسائل کا مقابلہ کریں جن کا پوری امت سامنا کر رہی ہے۔ اتحاد میں طاقت، اتفاق میں برکت ہے اور اسی سے اللہ تعالیٰ کی رحمت، مدد اور نصرت حاصل ہوتی ہے جبکہ باہمی انتشار اور خلفشار کے سبب اللہ کی رحمت اور مدد دور ہو جاتی ہے۔
تمام اہل علم کا اتفاق ہے کہ مسلمانوں کو آج دنیا بھر میں درپیش زوال اور مشکلات کی بنیادی وجہ اتحاد کا فقدان ہے، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم مسائل میں گرفتار ہونے کے باوجود عملی قدم بڑھانے میں ناکام ہیں اور محض دعاؤں تک محدود رہ جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اسی وقت امت میں اتحاد عطا فرمائیں گے جب ہم خود اس کے لیے تیار ہوکر قدم بڑھائیں۔
یہ نہایت خوش آئند بات ہے کہ آج الحمدللہ استادگرامی شیخ الاسلام مولانا مفتی محمد تقی عثمانی، حضرت مولانا فضل الرحمن، حضرت مولانا حنیف جالندھری، حضرت مولانا مفتی منیب الرحمن اور دیگر جید علمائے کرام کی قیادت میں تمام مکاتب فکر کے نمائندہ اہل علم نے "مجلس اتحاد امت” کے قیام پر اتفاق کیا اور اس سلسلے میں پہلی کانفرنس میں ملک و قوم کو درپیش اہم مسائل پر غور و خوض کے بعد متفقہ لائحہ عمل کی طرف پیش رفت ہوئی۔
ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس مجلس کو قبول فرمائیں، اس کے ذریعے اپنی رحمت اور نصرت کا سلسلہ قائم کریں، پوری امت کو اتحاد و اتفاق نصیب فرمائیں اور وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان کو امن، استحکام اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کر کے عالم اسلام میں ایک مضبوط قلعہ بنائیں۔ آمین۔

Leave a Reply